ألاسكا مين ترامب–بوتين كي حيرة مدهشة: كيا أوكرانيا كا مستقبل بدلن والا ہے؟
آج ایک ایسی خبر سامنے آئی جو دنیا بھر کے سیاستدانوں کو ہلا گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ 15 اگست کو وہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے ألاسکا میں ملنے والے ہیں.
ألاسكا — جو کبھی روس کا حصہ تھا اور 1867 میں امریکہ نے $7.2 million میں خریدا — اب دونوں ملکوں کے سب سے متنازعہ رہنماؤں کا ملن پوائنٹ بن رہا ہے. اور یہ ملاقات fishing یا sightseeing کے لئے نہیں ہو رہی… بلکہ أوكرانيا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ہو رہی ہے.
سب کو حیران کر دینے والی اعلان
ٹرمپ کا کہنا تھا: “میں صدر پوٹن سے ألاسکا میں مل رہا ہوں. ہم تاریخ بنانے جا رہے ہیں.”
واشنگٹن کے ذرائع کے مطابق، یہ میٹنگ بہت عرصے سے خفیہ منصوبہ بندی میں چل رہی تھی — اتنی خفیہ کہ کچھ نیٹو ڈپلومیٹس کو بھی بعد میں پتہ چلا.
أوكرانيا میں غصہ
أوكرانيا کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے فوراً ردعمل دیا:
“أوكراني اپنی زمین کسی کو نہیں دیں گے — چاہے ٹیبل پر کون بھی بیٹھا ہو.”
ان کا غصہ اس بات پر بھی تھا کہ ان سے بغیر ان کے ملک کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے.
أوروبا کا ردعمل
فرانس، جرمنی، برطانیہ نے مل کر وارننگ دی: أوكرانيا کی رضا مندی کے بغیر کوئی ڈیل غیر قانونی ہوگی. کچھ یورپی حکام نے اسے “سفارتی پھندہ” کا نام دیا جو پوٹن کو بغیر گولی چلائے سب کچھ دے سکتا ہے.
روس میں خوشی کا سمندر
روسی میڈیا نے اسے پوٹن کی بہت بڑی جیت بتا دیا. ہیڈ لائنز تک لگ گئی: “From the Bering Strait, With Love.”
آگے کیا ہوگا؟
15 اگست کو دونوں رہنما ایک کمرے میں ہوں گے. ایک سمجھتا ہے کہ وہ ایک دن میں جنگ ختم کر سکتا ہے، دوسرا نے دنیا کے نقشے پر بارڈر بدلنے کا ریکارڈ بنا رکھا ہے.
کیا یہ ملاقات امن لائے گی… یا نئے تنازع کا آغاز کرے گی؟
🚨 ألاسکا شاک!
15 اگست کو ڈونلڈ ٹرمپ 🤝 ولادیمیر پوٹن — ألاسکا میں face-to-face!
🎯 أوكرانيا کا مستقبل فیصلہ ہوگا… بغیر أوكرانيا کے؟
🔥 امن یا نیا تنازع؟
$BTC $
#Trump #Putin #Ukraine #Alaska
#BREAKINGnewsTokenizeAsset